اسرائیل میں سائرن، ملک جمود کا شکار
2 مئی 2019اسرائیل میں آج جمعرات کو نازی جرمنوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے چھ ملین یہودیوں کی یاد میں سالانہ دن منایا گیا۔ اس موقع پر دو منٹ تک سائرن بجائے گئے، جس دوران پیدل چلنے والے اور سڑکوں پر موجود ٹریفک رک گیا اور تمام افراد نے اس دوران اپنے سر جھکا لیے۔ گھروں اور دفاتر میں بھی کام روک دیا گیا۔
آج جمعرات کو ہولوکاسٹ میوزیم ’یاد واشم‘ پر پھول چڑھانے کی ایک تقریب بھی منقعد ہوئی، جس میں اسرائیلی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ اس قتل عام میں بچ جانے والے افراد نے بھی شرکت کی۔ ساتھ ہی اسکولوں، کمیونٹی سینٹرز اور فوجی چھاؤنیوں میں بھی مختلف تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ پارلیمان میں آج پورے دن اس قتل عام میں مارے جانے والے افراد کے نام زور سے پڑھے جاتے ہیں۔
ہولوکاسٹ میں مارے جانے والوں کی یاد میں یہ سالانہ دن اسرائیل میں بڑے جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے۔ آج ملک بھر میں کیفے، ریستوران اور سیر و تفریح کے مقامات بند ہوتے ہیں۔
ٹیلی وژن اور ریڈیو پر اس قتل عام کے موضوع پر دستاویزی فلمیں دکھائی جاتی ہیں اور بچ جانے والوں کے انٹرویو نشر کیے جاتے ہیں۔ سرکاری عمارات پر اسرائیلی پرچم بھی سرنگوں رہتا ہے۔
عبرانی کیلنڈر کے مطابق ہولوکاسٹ کا یادگاری دن 1943ء میں پولینڈ کے شہر وارسا میں نوجوان یہودیوں کی جانب سے قابض نازی دستوں کے خلاف بغاوت کی برسی کے موقع پر منایا جاتا ہے۔ اسے دوسری عالمی جنگ کے دوران ایک مزاحمتی تحریک کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس بغاوت کے دوران تیرہ ہزار یہودی ہلاک ہوئے تھے۔