ترکی: روسی سفیر کے قتل کے بعد تمام امریکی سفارتی مراکز بند
20 دسمبر 2016انقرہ سے منگل بیس دسمبر کو علی الصبح ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ امریکی حکومت نے نیٹو کے رکن اور واشنگٹن کے قریبی اتحادی ملک ترکی میں اپنے تمام نمائندہ سفارتی مراکز بند کرنے کا فیصلہ انقرہ میں امریکی سفارت خانے کے باہر کی جانے والی فائرنگ کے چند گھنٹے بعد کیا۔ امریکی حکام نے اس فیصلے کو ایک ’احتیاطی اقدام‘ کا نام دیا ہے۔
انقرہ میں امریکی سفارت خانے کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق روسی سفیر کے قتل کے چند گھنٹے بعد ایک مسلح شخص نے اسی شہر میں امریکی سفارت خانے کے باہر ایک آتشیں ہتھیار سے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کوئی شخص زخمی تو نہیں ہوا تاہم امریکی سفارتی مراکز کو حفاظتی نقطہ نظر سے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
بیان کے مطابق اس فیصلے کے بعد انقرہ میں امریکی سفارت خانے اور استنبول اور آدانا میں قونصل خانوں سمیت واشنگٹن کے تمام نمائندہ سفارتی مراکز کو معمول کی سرگرمیوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق امریکی سفارت خانے کے باہر فائرنگ کا واقعہ مقامی وقت کے مطابق صبح تین بج کر پچاس منٹ پر اور عالمی وقت کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب بارہ بج کر پچاس منٹ پر پیش آیا۔
اس واقعے سے محض چند ہی گھنٹے قبل انقرہ میں روسی سفیر آندرے کارلوف کو ایک ترک پولیس افسر نے گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔ روسی سفیر ایک نمائش کے افتتاح کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے، جنہیں حملہ آور نے پیچھے سے اسٹیج پر آ کر ایک پستول سے گولیاں ماریں۔
مبینہ قاتل کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کی عمر 22 برس تھی، وہ ترک اسپیشل فورسز کا ایک ایسا اہلکار تھا، جو حملے کے وقت ڈیوٹی پر نہیں تھا۔ بعد میں یہ حملہ آور خود بھی وہاں موجود سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ اس حملہ آور نے روسی سفیر کو نشانہ بناتے وقت اونچی آواز میں چیخ کر یہ بھی کہا تھا کہ حلب اور شام کو بھلایا نہیں جا سکتا۔
انقرہ میں امریکی سفارت خانہ اس آرٹ سینٹر کے بالمقابل واقع ہے جہاں روسی سفیر کو قتل کیا گیا۔ روسی سفیر اپنے قتل کے وقت ایک تصویری نمائش کے افتتاح کی تقریب میں شریک تھے۔