سکیورٹی حصار پھر توڑ دیا گیا، کابل میں امدادی ادارے پر حملہ
6 ستمبر 2016خبر رساں ادارے اے پی نے بتایا ہے کہ گزشتہ روز کابل میں ہونے والے اس حملے کے بعد سیکورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے مابین جھڑپ شروع ہو گئی، جو تمام رات جاری رہی۔ ابھی تک کسی گروہ نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
قبل ازیں کابل میں ہی جنگجوؤں نے وزارت دفاع کے دفاتر کو دوہرے بم دھماکوں سے نشانہ بنایا تھا، جس میں چوبیس افراد ہلاک جبکہ نوّے زخمی ہو گئے تھے۔
کابل میں پولیس نے آج بروز پیر بتایا ہے کہ بین الاقوامی ادارے ’کیئر انٹرنیشنل‘ پر حملہ کرنے والے تمام جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
افغان وزارت دفاع کے ترجمان صدیق صدیقی نے اے پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب حالات کنٹرول میں آ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس خونریز کارروائی میں تین حملہ آور اور ایک شہری مارا گیا جبکہ چھ دیگر افراد زخمی بھی ہوئے۔
اس حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے صدیقی نے کہا کہ منگل کی رات پہلے ایک کار خود کش حملہ کیا گیا، جس کے بعد تین حملہ آور کیئر انٹرنیشنل کی عمارت میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ، ’’اس کارروائی کے بعد پولیس کے خصوصی دستے فوری طور پر وہاں پہنچ گئے، جنہوں نے اس عمارت میں پھنسے بیالیس افراد کو وہاں سے نکال لیا۔‘‘
کابل میں کیئر انٹرنیشنل کا دفتر شہر نو نامی علاقے میں واقع ہے، جہاں متعدد گیسٹ ہاؤس قائم ہیں۔ یہ علاقہ غیر ملکیوں میں مقبول ہے۔ اس حملے کے بعد پولیس اور سکیورٹی فورسز نے شہر نو کی جانب جانے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کر دی ہے۔
کابل کے ہائی سکیورٹی زون میں ہوئے اس حملے کے بعد اس بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ انتظامیہ سلامتی کی ذمہ داری کو یقینی بنانے میں ایک مرتبہ پھر کیوں ناکام ہو گئی ہے۔
اس کارروائی سے چوبیس گھنٹے قبل ہی کابل میں وزارت دفاع کی عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز کے دو جرنیل بھی مارے گئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کر لی تھی۔ افغان صدر اشرف غنی نے کابل میں ہونے والی ان تازہ خونریز کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔