شام میں روسی فوج کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں، ایردوآن
10 مارچ 2017ترک صدر رجب طیب ایردوآن ایک سرکاری دورے پر روس کے دارالحکومت ماسکو پہنچے ہوئے ہیں۔ ماسکو میں انہوں نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایردوآن نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترکی شام کے معاملے پر روسی فوج کے ساتھ مکمل تعاون کر رہا ہے۔
ترکی نے گزشتہ برس اگست میں شام میں ایک فوجی آپریشن کا آغاز کیا تھا۔ ترکی کا مؤقف ہے کہ اس آپریشن کا مقصد شامی علاقے میں ترک سرحد کے قریب محفوظ علاقے قائم کرنا ہے تاکہ شدت پسند گروپ داعش کے حملوں سے ترکی کو بچایا جا سکے۔
شامی صدر بشار الاسد کے حامی ملک روس کی افواج بھی شام میں موجود ہیں اور شامی فورسز کے ساتھ مل کر شامی باغیوں کے علاوہ شدت پسند گروپ داعش کے خلاف بھی کارروائیاں کر رہی ہیں۔ روسی فوجی مدد کے بعد شامی افواج باغیوں سے کئی علاقوں کا قبضہ واپس حاصل کر چکی ہیں۔
معاشی پابندیوں کے مکمل خاتمے کی امید
روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ آج جعمہ 10 مارچ کو ماسکو میں ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ روس ترکی پر لگی تمام تر معاشی پابندیاں ختم کر دے گا۔
ماسکو نے انقرہ کے خلاف معاشی پابندیاں ترکی کی طرف سے ایک روسی طیارہ مار گرائے جانے کے بعد لگائی تھیں۔ ترک فورسز نے یہ روسی طیارہ نومبر 2015ء میں مار گرایا تھا۔ ترک حکام کا مؤقف تھا کہ اس طیارے نے ترک فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی تاہم روس کا کہنا تھا کہ یہ طیارہ شامی فضاؤں میں موجود تھا۔ اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان شدید تناؤ پیدا ہو گیا تھا۔ تاہم گزشتہ برس اگست میں روس اور ترکی کے درمیان تعلقات بحال ہوئے تھے۔