شعیب اور آصف پر ڈوپ ٹیسٹ کی تلوار
23 فروری 2007
پاکستان کے پندرہ رکنی ٹیم میں تیرہ ارکان کے علاوہ پانچ ریزرو کھلاڑیوں کے ڈوپ ٹیسٹ مکمل ہوگئے ہیں۔ تاہم محمد آصف اور شعیب اختر کی طرف سے ڈوپ ٹیسٹ کے لئے نمونے نہ دینے کی وجہ سے ذرائع ابلاغ میں یہ تبصرے کئے جارہے ہیں کہ شاید اب بھی ان دو کھلاڑیوں کے جسم میں ممنوعہ ادویات کے اثرات موجود ہوسکتے ہیں۔ ممنوعہ ادویات کے ماہرین کی رائے میں ایسا عین ممکن ہے کہ شعیب اور آصف کے جسم میں ادویات کا اثر اب بھی موجود ہے۔
ان دو کھلاڑیوں کی غیر موجودگی میں پاکستان کا بولنگ شعبہ کافی کمزور ہوجائیگا۔ ٹیم کے کوچ باب وولمر کے بقول پاکستان میں شعیب اور آصف کے بغیر میچ جیتنے کی صلاحیت ہے تاہم دونوں بولرز ٹیم کے لئے ایک اہم اثاثے سے کم نہیں۔ شعیب نے ورلڈ کپ میں اپنی شرکت کے حوالے سے نامہ نگاروں کو بتایا ہے کہ انکے کھیلنے کا امکان ’ففٹی ففٹی‘ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ یعنی پی سی بی کے ڈائریکٹر آپریشنز سلیم الطاف نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ کسی بھی کھلاڑی کے ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے کی صورت میں بورڈ کا رویہ سخت ہوگا اور ایسے کھلاڑی ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی نہیں کرسکتے ہیں۔
ڈوپ تنازعے کے علاوہ پاکستان کی ٹیم کھلاڑیوں کے فٹنس مسائل سے بھی دوچار ہے۔ شعیب کے گھٹنے میں چوٹ ہے، جبکہ آصف کہنی میں لگی چوٹ سے پریشان ہیں۔ عمر گل کے ٹخنے کی چوٹ میں کافی بہتری آئی ہے۔ ورلڈ کپ کے لئے بلائے گئے تربیتی کیمپ میں عمر گل نے بولنگ کی اور اپنی فٹنس پر اطمینان کا اظہار کیا۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل یا آئی سی سی اس مرتبہ کھلاڑیوں کی ٹارگیٹ ٹیسٹنگ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جبکہ ماضی میں قرعہ اندازی سے یہ عمل پورا کیا جاتا تھا۔