لاک ہیڈ مارٹن اور سعودی کمپنیوں کے مابین معاہدہ طے
11 فروری 2024یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں طے پایا ہے جب امریکہ مشرق وسطیٰ میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
لاک ہیڈ نے حال ہی میں جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ ٹرمینل ہائی ایلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس (ٹی ایچ اے اے ڈی) سسٹم کے ذیلی معاہدے سعودی عرب کی مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ ملک کے دفاع کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے نیز ہتھیار سازی کی امریکی مہارت سعودی عرب کو منتقل ہو سکے گی۔
اس حالیہ معاہدے کا اعلان حال ہی میں دارالحکومت ریاض میں عالمی دفاعی شو کے موقع پر کیا گیا۔
ملک کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، قومی ملکیت والی سعودی عریبین ملٹری انڈسٹریز نے اس تقریب میں 11 مختلف معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔
یہ معاہدے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے وقت طے پائے ہیں۔
امریکہ اور برطانیہ نے گزشتہ ہفتے کے روز ایک مشترکہ کارروائی کے دوران یمن میں حوثی باغیوں کے 36 اہداف پر حملے کیے۔ اس کارروائی سے ایک روز قبل امریکی فوج نے عراق اور شام میں تہران کے حمایت یافتہ گروپوں کو نشانہ بنایا تھا جو اُردن میں امریکی فوجیوں پر ایک مہلک حملے میں ملوث تھے۔
شپنگ کمپنیوں کی جانب سے یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے حملے سے بچنے کے لیے بحیرہ احمر کے ایک اہم اور مصروف راستے کے ساتھ ٹرانزٹ معطل کر دی گئی ہے۔ عسکریت پسند ملیشیا کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال نومبر سے جاری بحری جہازوں پر ڈرون اور میزائل حملے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔
بائیڈن انتظامیہ، سعودی عرب کے لیے ٹی ایچ اے اے ڈی سسٹم کی فراہمی کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ مشرق وسطیٰ کے اس اہم ملک کو پہلی بار اس سسٹم کو حاصل کرنے کی منظوری 2017 ء میں بیلسٹک میزائل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے دی گئی تھی۔
لاک ہیڈ مارٹن کی جانب سے کیے گئے معاہدوں میں سعودی عرب کی مڈل ایسٹ پروپلشن کمپنی اور عریبین انٹرنیشنل کمپنی شامل ہے۔
م ق/ ک م(روئٹرز)