’پاکستان سے قربت کیوں‘، افغان خفیہ ایجنسی کا سربراہ مستعفی
10 دسمبر 2015افغان دارالحکومت کابل سے جمعرات دس دسمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی کہلانے والی ملک کی مرکزی انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ نبیل نے اپنے استعفے کا اعلان ایک ایسے خط میں کیا، جو آج ہی ان کے دفتر کی طرف سے ملکی ذرائع ابلاغ کو بھیجا گیا۔
خط کے مطابق رحمت اللہ نبیل کے استعفے کی وجہ ان کے ملکی صدر اشرف غنی کے ساتھ پائے جانے والے وہ اختلافات بنے، جن کا سبب صدر غنی کی پالیسیاں ہیں۔ روئٹرز نے لکھا ہے کہ رحمت اللہ نبیل کے استعفے کا ایک پس منظر حالیہ مہینوں میں افغانستان میں رونما ہونے والے وہ کئی واقعات بھی بنے ہیں، جو کابل حکومت کے لیے بڑے دھچکوں کے مترادف تھے۔
ان میں سے ایک واقعہ شمالی افغان شہر قندوز پر طالبان کا حالیہ قبضہ بھی تھا اور پھر اسی ہفتے منگل کے روز جنوبی افغان شہر قندھار کے ہوائی اڈے پر کیا جانے والا افغانستان کے طالبان عسکریت پسندوں کا وہ حملہ بھی، جس میں عام شہریوں اور پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں سمیت 50 افراد مارے گئے تھے۔
روئٹرز کے مطابق اپنے خط میں رحمت اللہ نبیل نے لکھا ہے کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران ’چند پالیسی امور پر کوئی اتفاق رائے نہ ہو سکا‘ تھا اور صدر اشرف غنی کی طرف سے این ڈی ایس کے سربراہ کے طور پر نبیل کی طرف سے اپنے فرائض انجام دینے کی صلاحیت کے سلسلے میں ’ناقابل قبول شرائط‘ بھی عائد کر دی گئی تھیں۔
افغان میڈیا کے حوالے سے ملنے والی دیگر رپورٹوں کے مطابق رحمت اللہ نبیل کے استعفے کی گونج آج افغان سوشل میڈیا پر بھی دیکھنے میں آئی۔ اس دوران ٹوئٹر پر افغان میڈیا ہی کے حوالے سے ایسے پیغامات بھی گردش کرنے لگے، جن کے مطابق رحمت اللہ نبیل نے اشرف غنی کے حالیہ دورہ پاکستان کے سلسلے میں بھی ان پر تنقید کی ہے۔
سوشل میڈیا پر نبیل کے خط کے مندرجات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان، این ڈی ایس کے سربراہ کے بقول، مبینہ طور پر ابھی بھی معصوم افغان شہریوں کو قتل کر رہا ہے لیکن صدر اشرف غنی پاکستانی رہنماؤں سے ہاتھ ملاتے پھرتے ہیں۔