ایک روزہ میچوں میں فخر زمان کی ڈبل سینچری
20 جولائی 2018زمبابوے کے شہر بلاوایو کے کوئنز اسپورٹس کلب میں کھیلے جانے والے ایک روزہ میچ کا نتیجہ اس لیے اہم نہیں رہا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم پہلے ہی ایک روزہ میچوں کی سیریز جیت چکی ہے۔ زمبابوے ہی میں پاکستان نے سہ فریقی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ آسٹریلیا کو شکست دے کر جیت لیا تھا۔
پاکستان نے پہلے تین ایک روزہ میچوں میں زمبابوے کو مسلسل شکست سے ہمکنار کیا۔ زمبابوے کی ٹیم پاکستانی بالروں کا مؤثر انداز میں سامنا کرنے سے قاصر رہی۔ چوتھے ایک روزہ میچ میں کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا۔
افتتاحی بیٹسمینوں امام الحق اور فخر زمان نے انتہائی تیز رفتاری سے اسکور بڑھانا شروع کر دیا اور کُھل کر اسٹروک لگاتے چلے گئے۔ پاکستان نے مقررہ پچاس اوورز میں 399 بنائے اور اُس کا ایک کھلاڑی آوٹ ہوا۔
یہ ایک روزہ میچوں میں پاکستانی ٹیم کا سب سے زیادہ اسکور ہے۔ اس سے قبل 385 رنز بنگلہ دیش کے خلاف بنائے گئے تھے۔ امام الحق اور فخر زمان کے درمیان پہلی وکٹ کی شرکت میں 304 رنز بنے۔
یہ پاکستان کی کسی بھی وکٹ کے لیے سب سے بڑی پارٹنرشپ بھی بن گئی ہے۔ اس سے پہلے عامر سہیل اور انضمام الحق نے نیوزی لینڈ کے خلاف سن 1994 میں 263 رنز بنائے تھے۔
فخر زمان پاکستان کے پہلے بیٹسمین بن گئے ہیں، جنہوں نے ایک روزہ میچوں میں ڈبل سینچری بنائی ہے۔ انہوں نے بھارت کے خلاف سعید انور کا 196 کا سب سے زیادہ اسکور کا ریکارڈ بھی توڑ ڈالا۔ فخر زمان نے 210 رنز بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔ انہوں نے اس اننگز میں چوبیس چوکے اور پانچ چھکے لگائے۔
فخر زمان کے ساتھ کھیلتے ہوئے امام الحق نے 113 رنز بنائے۔ ایک اور پاکستانی کھلاڑی آصف علی بھی نصف سینچری بنانے میں کامیاب رہے۔